سالانہ اجتماع کی جھلکیاں
 

۔ تمام انتظامات شا ندار تھے ۔مختلف شہروں سے لو گوں نے شر کت کی ۔
۔ شر کا کو ادارہ کے گیٹ پر سیکو رٹی چیک کیا گیا ۔اور خو ش آمد ید کہا ۔
۔ اجتماع گا ہ کے باہر شا ہ صاحب کی کتابوں کا اسٹال لگا یا گیا ۔
۔مدینہ شریف سے پیر سید ضیا الحق شا ہ صاحب جیلانی تشریف لائے ۔انکو مدین کی خوشبو کہا گیا۔
شاہ صاحب نے داڑھی رکھنے کی رغبت دلائی تو انجنئیر مشتاق نے اسی وقت داڑھی سجانے کا ارادہ کیا۔
۔خواتین کے لئے با پردہ ما حول تھا جہاں سکرین لگائی ہوئی تھی ۔
۔شاہ صاحب نے اعلان کیاکہ کو ئی پوسٹ گر یجو ایٹ اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کرے تو اسکو ما ہانہ وظیفہ بھی دیا جا ئیگا.
۔یاسر فاروق کے بارے فرمایا کہ اسنے ڈرائیونگ کر کے خدمت کی تو اسکے لئے امریکہ ،جرمنی ،ہالینڈ اور سپین سے آفرز ہیں.
۔شاہ صاحب نے عامر سلطان سے پوچھا خان صاحب کیا کرو گے ؟ اس نے کہا جہاں فر مائیں گے وہاں دین کی خدمت کر وں گا ۔
۔ دلاور شاہ کو سند دیتے ہوئے فرمایا ٹھنڈے علاقے کا گرم سید ۔
۔ علامہ ثاقب رضامصطفائی کو شاہ صاحب نے کہا انکے لئے میرا لقب یہ ہے کہ میں ان سے محبت کر تا ہو ں ۔
۔حاجی ایوب ہر اسٹیج پر آنے والے کے گلے میں چادر ڈالتے رہے ۔اور حاجی سلیم پھولوں کے ہا ر اور گلاب کی پتیاں نچھاور کرتے رہے ۔
۔دیوان آل سیدی نے شاہ صاحب کے عم محترم کے لئے دعا کر وائی ۔
۔حافظ قاسم اجتماع کے انتظامات سنبھالے ہوئے تھے  ۔
۔سید فیصل ریاض شاہ سیاہ عمامہ باندھے اور سید نعمان ریاض شاہ ٹو پی سجائے اسٹیج پر تشریف فرما رہے ۔
۔قبلہ شاہ صاحب نے پروفیسر کریم خاں کو انعام دینے کے لئے ڈاکٹر طاہر رضابخاری کو بلاتے ہوئے کہا افسروں کے لئے افسر ،پھر مسکراتے ہوئے کہا کہ خربوزے کے لئے خر بو زہ ۔ساتھ ہی فرمایا وہ میٹھا ہوتا ہے  ۔
۔راجہ آصف کو شاہ صاحب نے اپنا دایا ں ہا تھ کہا ۔اور فر مایا کئی مساجد میں انکی وجہ سے یا رسول اللہ کی صدائیں گو نجتی ہیں  ۔
۔حافظ اکبر کے بارے فرمایا کہ چھ سال پہلے خود سند حاصل کی اور آج سند دینے کے لئے انکو بلا یا جا رہا ہے ۔

 اجتماع کے موقع پر ادارہ کے 45 اساتذہ کی تنخواہوں میں پا نچھ سو روپے کا اضافہ کرنے کا اعلان کیا
۔علامہ نور محمد بندیالوی سوہاوہ سے پنڈی آکر سراجی پڑھاتے رہے انکو بھی انعام دیا ۔
۔ شاہ صاحب وقفے وقفے سے نعر ہائے تکبیر ورسالت لگاتے رہے ۔
۔غوثیہ ہال ہجوم عاشقاں کا نظارہ پیش کر رہا تھا ۔تل دھرنے کی جگہہ بھی نہیں تھی  ۔
۔خضر ملت نے مفتی اقبال سے تین منٹ ادھار لئے کہ لاہو ر میں واپس کر دوں گا ۔
۔ عثمان ندیم کو شاہ صاحب نے فرمایا کہ اس نے ساری ساری رات میری خدمت کی ۔یہ نرسری میں آیا اور آج عالم دین بن گیا ۔
۔فارغ ہونے والوں کے بارے فر مایا کہ اللہ کرے یہ امامت و خطابت بھی کریں ۔

30-12-2008